ابتدایہ
سن لیں اعرا میں بگڑنے کا نہیں
وہ سلامت ہیں بنانے والے
میلاد فاؤنڈیشن کی تنظیمی تشکیل کا ڈھانچہ ویسے تو ١٧اپریل ٢٠١٠ کو شہر ملواکی اور ریاست وسکا نسن کی تاریخ کی پہلی گیارویں شریف کی دعوت عام کے سلسلے کی ایک محفل منعقد ہ مسجد القرآن میں کیا گیا . لیکن غیر تنظیمی طور پر خادمان و بانیان میلاد فاؤنڈیشن شہر مل واکی میں ١٩٧١ سے جب مسجد القرآن نے اپنی خدمات کا ابھی آغاز ہی کیا تھا ، متحرک تھے اور عوامی سطح پر اجتمائی طور پر مذہبی تہواروں کے پروگراموں کی شروعات کر چکے تھے .
اس شہر کی پہلی محفل نعت نعت گو شاعر جناب قمر انجم مرحوم ،مغفور کی صدارت میں سجانےکا سہرا خادمین میلاد فاؤنڈیشن کے سر سجا اور یہی نہیں بلکہ ١٠جولائی ١٩٨٧، ١٥ ربیع الاول شریف
کو آقا کریم علیہ الصلوا ۃ والتسلیم کے جشن ولادت کی محفل عید میلاد النبی صلے الله علیہ والہ وسلم نہ صرف اس شہر بلکہ ریاست وسکا نسن میں پہلی بار منعقد کرنے کی سعادت بھی با نیا ن و خادمان میلاد فاؤنڈیشن کو نصیب ہوئی اور میزبانی کا شرف اس وقت کے مسجد القران کے بورڈ ممبران کو ملا اور اس مبارک موقع پر حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب رحمتہ اللّہ علیہ بحیثیت مقرر تشریف لاۓ تھے اور یہ بھی ایک سعید و مبارک حسن اتفاق ہی تھا کہ اس پا ئے کے ، اس مقام کے ،اس رتبے کے…….. و مفکر اسلام اہلسنت و الجماعت نے پہلی بار شہر مل واکی بلکه پوری ریاست وسکا نسن کی سرزمین کو قدم …..فرمایا تھا . جی ہاں پہلی بار اس کے علاوہ …….شعبان …..کی دعا خوانی ہو یا میراج نامہ کی لحف نورانی یا رمضان المبارک کے معمولات دعوت عام کا سما ں بندھ جاتا تھا . افطار سے لیکر تراویح تک سحری سے لیکر اشراق تک اتکاف سے لیکر لیلتہ قدر کی سحر اگا ہیاں سمیت شوال و ذیقعد اور ذی الحج کے مقدس شب و روز کے ذکر و ااذکار کی شرف با بیان یا ہوں محرم الحرام کے نذرو نیاز کی محفلیں ،………..میں یوم رضا کے نغمات .ان مقدس و با برکت تقریبات کی جملہ رونقوں کی بازگشت نہ صرف مسجد القرآن کے درودیوار و ں میں بلکہ مل واکیاور وسکا نسن کی فضاؤں میں پہلی گونج کے طور پر تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں .
یہ صد شکر الحمدلللہ یہ سب سعادتیں اپنے انور و برکات کے ثمرات کے ساتھ ہم خادموں کو عطا ہوتی رہی ہیں .گویا ایک نہ روکنے نہ تھمنے والا سلسلہ تھا جو چل نکلا تھاتو سوچا کہ کیوں نہ اس پورے دائرہ عمل کو باقائدگی سے نظم و ضبط کے ساتھ چلانے کیلیے ایک تنظیمی شکل دی جاے لہٰذا اسے متفقہ طور پر ایک تنظیمی ڈھانچے میں تشکیل
دے دیا گیا اور اس کا نام میلاد فاؤنڈیشن تجویز کیا گیا .
١٩٩٧میں لگایا گیا یہ ننھا سا پودا اپنی راه میں حا ئل رکاوٹوں ،مخالفتوں،مخا صمتوں ، حسد ،رنجش کی آندھیوں اور کبیر و نخوت کے طوفانو ن تمام تر حشر سامانیوں سے ٹکرانے کے بعد ماشا الله اب ایک تناور اور سایہ دار درخت بن کر آپکے سامنے کھڑا ہے .
بفضل تعالیٰ و بفضل حبیب تعالیٰ یہ اندھی طوفان بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکےاور نہ کھبی بگاڑ سکیں گے انشا اللهالعزیز بلکہ ہماری تو ا نا ئی و افزائش ذریعہ بن گے .
بقول حضرت علامہ اقبال
تندہی با د مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
یہ تو اڑاتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلیے
الحمدللہ ثمہ الحمدللہ یہ سایہ دار درخت اپنی ٹھنڈی چھاؤن سے سواد اعظم اہلسنت والجماعتکے عاشقان کیف و مستی کی روحانی پیاس کو بھجانے کیلیے انھیں تراوٹ فراہمکرنے میں اس عزم کے ساتھ اپنا مقدر بھر حقہ ڈال رہا ہے کہ
چلو ،طے ،کہ اہل گلشن ،چلیں راہ پہ جنون کی
یہ سفر کہاں ختم ہو ،کوئی فیصلہ نہیں ہے
میں تڑپ کے جاندے دوں ،ہے یہ اور بات لیکن
میں چمن کو جلتا دیکھوں ، میرا حوصلہ نہیں ہے
All rights reserved by M.I.L.A.D Foundation © 2026